بنگلورو،17؍نومبر(ایس او نیوز) نائب صدر ہند وینکیا نائیڈو نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ طلبہ کو جانکاریوں پر مبنی تعلیم سے آراستہ کریں اور طلبہ زراعت سمیت ہر ایک شعبہ کے مسائل کا سامنا کر تے ہوئے ریسرچ میں حصہ لیں۔ یہاں پی ای ایس یو نیورسٹی کے چھٹے کانوکیشن اجلاس سے خطاب کر تے ہو ئے وینکیا نائیڈو نے اس خیال کا اظہار کیا اور کہا کہ یونیورسٹیوں کو چاہئے کہ ملک اور بین الاقوامی مانگوں کے تحت تعلیم فراہم کرنے تعلیمی اداروں کوتیار کریں اور اس جانب مرکزی حکومت کی نئی تعلیمی پالسیی کا رگر ثابت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے مادری زبان میں تعلیم فراہم کرنے کو اہمیت دیں، کیونکہ اس سے طلبہ کو آسانی ہو گی۔نائیڈونے کہاکہ زراعت، صنعت،خلا سمیت ہر ایک شعبہ میں ٹکنالوجی کے حصول پر توجہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی میں 65فیصد نوجوان شامل ہیں، اس لئے اعلیٰ تعلیمی ادارے ان نوجوانوں کو ہنر مندی پر مبنی تعلیم فراہم کریں جس کے تحت3.5ٹکنا لوجی،مشن لرننگ،روبو ٹیک،بائیو ٹکنالوجی،ڈرون ٹکنالوجی کا منا سب استعمال کیا جا ئے۔ریاستی گورنر تھاور چند گہلوٹ نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور مستقبل کو مد نظر رکھتے ہو ئے مرکزی حکومت نے نئی تعلیمی پا لیسی کو نافذ کیا ہے اور ریاست کرناٹک کو پالیسی جاری کرنے والی پہلی ریاست کا اعزاز حاصل ہو گا۔یو نیور سٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایم آر دورے سوامی نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ چندطلبہ کے ساتھ شروع اس یونیورسٹی میں آج ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور قابل طلبہ کی نشاندہی کر کے انہیں ہر سال35کروڑ سے زیادہ اسکالر شپ دی جاتی ہے۔کانو کیشن کے دوران22طلبہ کو گولڈ میڈل،59طلبہ کو سلور میڈل سمیت پی ایچ ڈی،ایم ٹیک کورسس کے2,249طلبہ کو ڈگری سے نوازا گیا۔ کانو کیشن تقریب میں ڈاکٹر سوریا پرساد،رجسٹرار کے ایس شری دھر حاضر رہے۔